!آج ڈورا مر گیا

 

آج ڈورا مر گیا

جب وہ پیدا ہوا تو مکمل طور پر صحت یاب تھا اس کے جسم کے تمام حصے مکمل طور پر کام کر رہے تھے،وہ تندرست تھا اس کی ماں اس کے قدرے بڑے ہونے پر اس کو چھوڑ گئی اور وہ اکیلا بے یار و مددگار تنہا رہ گیا۔ میرے بیٹا علی اس کا دیوانہ اور میری بیوی آسیہ اپنے بیٹے کی دیوانی۔ میں اس کو پسند نہیں کرتا تھا۔ لیکن ایک دن علی نے مجھے بتایا کہ اس کو کوئی بیماری لاحق ہو گئی ہے ۔علی نے اس کی خاصی تیمار داری کی، محالجوں سے رابطہ کیا پھر وہ ٹھیک ہو گیا۔
علی نے اس کی تندرستی کے بعد محسوس کیا کہ حس سماعت سے محروم ہو چکا تھا۔ میں نے علی سے کہا کہ آوٴ اس کو کسی کے پاس چھوڑ آئیں لیکن علی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اور اس کی والدہ کی سفارش پر میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔
علی نے کہا کہ وہ قوت سماعت سے محروم ہونے کے بعد اتنی کم عمر میں شاید سلامت نہ رہ سکے۔ میں نے اس دن سے اس کو پیار کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا۔ وہ اتنا شریف اور پیار کرنے والا تھا کہ چند دنوں میں نے اس کا خیال کرنا شروع کر دیا۔ اس کی دیکھ بھال کو اپنی ذمہ داری کے طور پر نبھانے لگا۔
آسیہ اس کے کھانے کا خاص اہتمام کرتی اس کا ہر طرح سے خیال کرتی تھی۔ وہ وقت گزرنے کا ساتھ گھر کے ہر فرد کے قریب ہوتا چلا گیا۔
ہر کوئی اس کو پیار سے بلاتا، کھانا کھلاتا، اکژ وہ کرسی پر بیٹھا بیٹھا سو جاتا تھا۔ جب وہ سو رہا ہوتا تھا تو کوئی بھی اس کے آرام میں مخل نہ ہوتا تھا۔ جب کھانے کا وقت ہوتا تو اس کو اُٹھایا جاتا وہ ایک دم چونک کر اٹھتا اور گم سم سا ہو جاتا۔ پھر اسے ہوش آتا کہ اس کا کھانا تیا ر ہے۔
ہم اسے گھر سے باہر نہ جانے دیتے خوف کے مارے، کہیں کوئی گاڑی یا کوئی سواری اس کو ٹکر نہ مار دے اور اس کو نقصان نہ پہنچ جائے۔ وہ جہاں جی چاہتا سوتا اور جہاں جی چاہتا بیٹھتا تھا۔
اس کے لئے کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ اس کےساتھ سب کو پیار ہو گیا تھا وہ گھر کے فرد کی مانند اپنا حق جماتا تھا۔
میرے سمیت سب اس کی حفاظت کرتے تھے اور ہر وقت دیکھ بھال بھی۔
کسی کا کھانا ملے یا نہ ملے اس کو کھانا وقت پر ملتا تھا اور اس کی وجہ سے باقی سب کو بھی۔ وہ ایک وسیلہ تھا ۔
لیکن آج وہ گاڑی کے ساتھ ٹکر ا کر مر گیا اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا سرخ اور گاڑا خون جو زندگی کی علامت بھی ہے اور موت کی نشانی بھی۔
میں نے اس خون کو اپنے اندر ایک خلا کی طرح محسوس کیا ، میری ہمت حوصلہ ختم ہو گیا۔
میرے دکھ درد کا کوئی اور اندازہ نہیں لگا سکتا، میری تکلیف کو کوئی اور محسوس نہیں کر سکتا۔ صرف میں ہی جانتا ہوں۔
آج اس ملک میں ہر روز کئی ڈورے مرتے ہیں،معصوم ، بے ضرر ، سادہ، کسی کو نقصان نہ پہنچانے والے، ان کے موت پر صرف وہ روتے ہیں جن کا تعلق ہوتا ہے،
کاش ہمارے حکمران یہ بات سمجھ جایئں اور اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر ان ڈوروں کی حفاظت کا بھی سوچ لیں ورنہ مرنا تو سب نے ہے، ڈوروں نے بھی اور ان حکمرانوں نے بھی۔ ڈورا تو مر گیا لیکن مجھے بھی مار گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *